نقیب ختم نبوت

قادیا نیت دم توڑرہی ہے!

عبداللطیف خالد چیمہ

تحریک تحفظ ختمِ نبوت کے ممتاز رہنما، مجاہد ملت، حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانی اگر چاند پر بھی چلے جائیں تو ہم ان کا تعاقب کرتے رہیں گے۔‘‘ یہ اُن کی اُلُوالعزمی اور اپنے مشن کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ تھی اور پھر عمر بھر وہ اس وابستگی کو نبھا تے رہے ۔قادیانی دجل وفریب کا پردہ ہر اُس جگہ چاک کیا جا رہا ہے جہاں جہاں یہ فتنہ اِرتداد پہنچا ہے۔ ۲۶؍رمضان المبارک (۲۷؍ اگست) کو رات دس بجے کے بعد جرمنی سے جناب سید منیر احمد شاہ بخاری (سابق قادیانی، موجودہ امیر مجلس احرارِ اسلام جرمنی)کا فون آیا تو انہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ اُن کے بیٹے سید مظفراحمد بخاری نے قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کر لیا ہے اور یہ سن کر اور زیادہ اطمینان ہواکہ قادیانی بیٹے نے اپنے مسلمان باپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیاہے، نیزاُس کی عیسائی بیوی بھی ساتھ ہی مسلمان ہو گئی ہے ۔ قادیانیت ترک کرنے کی تقریب میں نو مسلم نے کہا کہ’’ اللہ کے فضل وکرم سے مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ اسلام ہی ایک سچا دین ہے اور حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ قادیانیت ایک دھو کے اور دجل کا نام ہے جو رائل فیملی کے تسلط کو جبر کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہے اور قادیانی قیادت ہر حربے کے ذریعے فسطائیت کا رول ادا کر رہی ہے ۔ میں نے شعوری طور پر مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا ہے، سب مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ میرے لئے استقامت اور ایمان پر خاتمے کی دعا کریں۔میں دنیا بھر کے قادیانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ٹھنڈے دل ودماغ اور غیر جانبداری کے ساتھ قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کریں تو وہ خود بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے جس پر میں پہنچا ہوں۔‘‘

سید منیر احمد شاہ بخاری اور مشہور سابق قادیانی رہنما شیخ راحیل احمد مرحوم (۲۰۰۳ء میں) یکے بعد دیگر مسلمان ہوئے تھے اور یہ دونوں حضرات قادیانیوں کو دعوت حق، اسلام کے خالص دعوتی انداز میں دینے پر زور دیتے رہے ہیں۔ اسی اچھی خبر کے ساتھ رات گزری تو صبح ۲۷؍ رمضان المبارک کو دکان پر جانے سے پہلے میں نے فون دیکھا تو کچھ عرصہ قبل مسلمان ہونے والے ایک اور سابق قادیانی طاہر منصور خان (اسلام آباد) کا موبائل میسج پڑھنے کو ملا کہ رات کواُن کی بو ڑھی والدہ نے اسلام آباد میں قاری عبدالوحید قا سمی کے روبرو کلمہ اسلام پڑھ کر قادیانیت سے برأت کا اعلان کیا ہے۔ دن کے وقت طاہر منصور خان اور قاری عبدالوحید قاسمی سے رابطہ ہوا تو دونوں حضرات کو مبارک بھی دی ، طاہر منصور خان اپنی والدہ کے قبول اسلام پر بے حد

خوش تھے انہوں نے بتایا کہ ’’کلمتہ الفصل اور ایک غلطی کا ازالہ ‘‘دیکھ اور پڑھ کر اللہ تعالیٰ نے والدہ کا دل بدل دیا ،طاہر منصور خود ۶؍مئی ۲۰۱۱ء کو مشرف بہ اسلام ہوئے اس کے بعد ان کو کئی گھریلو مشکلات پیش آئیں اور وہ ایک اچھے پڑھے لکھے نو جوان کے طور پر قادیانیوں کے اندرونی سسٹم پر علانیہ تنقید کر تے رہے جس پرقادیانی جماعت نے کئی ہتھکنڈے استعمال کئے مگر وہ اپنی والدہ کو قادیانیوں کے چنگل سے آزاد کرانے میں کا میاب ہو گئے ۔طاہر منصور نے یہ سطور لکھنے کے دوران مجھے بتایا کہ

’’ والدہ نے ۱۵سال کی عمر سے اب تک تقریباً ۵۰ سال تک قادیانی نظام کے مطابق ایک خطیر رقم جماعت کو مختلف مدات میں دی ہے اور ان کواب سمجھ آئی ہے کہ وصیت کے نام پر جنت کے حصول کے لئے جو رقم جماعت لیتی تھی وہ سارے کا سارا دجل اور فراڈ ہے ،قادیانی جماعت عقیدۂ ختمِ نبوت کی نفی کرتی ہے،منافقت اور دجل ان کا وطیرۂ امتیاز ہے اور یہ امت کے ایمان کے قاتل ہیں۔‘‘

۱۱؍ ستمبر کے روزنامہ ’’اسلام‘‘ لاہور میں ظفر وال (ضلع نارووال) کے ایک قادیانی کے قبولِ اسلام کی خبر پر نظر پڑی تو خوشی میں مزید اضافہ ہوا۔ تفصیل کے مطابق تحصیل پسرور کے نواحی گاؤں گگیال کے رہائشی طارق احمد ولد محمد بشیر نے جناب حافظ عبدالغفور کی تبلیغ و تعلیم سے متاثر ہوکر مولانا افتخار اللہ شاکر (امیر انٹرنیشنل ختم نبوت پنجاب) کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ بعد ازاں مرکزی جامع مسجد بھلور میں نو مسلم طارق احمد نے عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : ’’اسلام ہی برحق دین ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹا اور اس کا مذہب ڈھونگ ہے۔انھوں نے کہا کہ میرے بیوی بچے بھی جلد مسلمان ہو جائیں گے۔ (ان شاء اللہ) گزشتہ دس سال سے میرے اندر عجیب طلاطم تھا مگر اسلام کی روشنی نے میرے تمام تفکرات دور کر کے مجھے راہ ہدایت دکھائی۔ میں قادیانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا قادیانی کی تعلیمات سے رخ موڑ کر سچے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برحق تعلیمات کو اپنا لیں۔‘‘

مذکورہ تینوں خو شگوار خبروں سے کئی روز قبل ختمِ نبوت اکیڈمی لندن کے ناظم مولانا سہیل باوا نے اس بڑی خبر سے آگاہ کیا کہ انڈو نیشیا میں ۱۶۴ قادیانی تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ۲۰۰۸ء میں انڈو نیشیا میں مسلم قادیانی تنازعہ اِس بنا پر شدت اِختیار کر گیا تھا کہ قادیانی اپنے دجل اور کفرکواسلام کے نام پر متعارف کر وا رہے ہیں وہاں مختلف مذہبی حلقوں نے اِن کا تعاقب شروع کر رکھا تھا ،انڈونیشیاکی وزارت مذہبی امور کے ہیڈ آفس کے ایک اعلامیہ کے مطابق انڈونیشیا کے شہرسارولینگن(Sarolangun)کے قادیانیوں نے قادیانیت ترک کرنے کابرملا اظہار کر دیا ہے، قادیانیوں کے خلاف اندونیشیا کی علما کونسل کی گذشتہ کئی سالوں سے منظم اور بھر پور جدو جہد کار فرما رہی ہے، یہ کونسل اتنی بڑی تعداد میں قادیانیوں کے قبول اسلام پر مبارک باد کی مستحق ہے ،اور متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان سمیت دینی حلقوں نے کونسل کی خدمات کو سراہا ہے۔

سہیل باوا کے بعد ڈاکٹر محمد عمر فاروق (ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس احرارِ اسلام پاکستان) نے یہ خبر ارسال کی جسے اخبارات کو ارسال کر دیا گیا۔ مذکورہ بالا خبروں اور احوال کی روشنی میں ہمیں امید ہے کہ امریکی ومغربی اور خصوصاً صہیونی قوتوں کی پُشت پناہی کے باوجود قادیانی مکر و فریب اور دجل و دھو کہ عیاں ہو رہا ہے اور جہاں جہاں قادیانیت پہنچی ہے وہاں تہاں علماء ختمِ نبوت اور اکابر احرار کے مشن کے وارث ان کا پیچھا کررہے ہیں۔ مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے استعارے کے طور پر فر مایا تھا کہ اگر قادیانی چاند پر بھی چلے جائیں تو ہم وہاں بھی ان کا پیچھا کریں گے ۔ہم اس کی تعبیر یوں کریں گے کہ قادیانی آسمان کی بلندیوں اور زمین کی تہوں تک جہاں بھی چلے جائیں،ہماراعزم ہے کہ ہم ہر جگہ ان کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ) تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ ختم نبوت کے محاذ کی جماعتیں، ادارے اور شخصیات قادیانیت کے طریق کار بلکہ طریق واردات کا اچھی طرح مطالعہ کریں، سمجھیں اور جوابی و دعوتی اسلوب کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوے اپنی پالیسیاں طے کریں،میڈیا اور انٹرنیشنل لابنگ جیسے محاذوں پر زیادہ توجہ اور کام کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ منظم ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یارب العالمین!

عبداللطیف خالد چیمہ
پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی ’’ڈومور‘‘ کے جواب میں ’’نومور‘‘
  Twitter RSS Designer