نقیب ختم نبوت

ستمبر ۔۔۔ یومِ تحفظ ختمِ نبوت (یومِ قرار دادِ ا7 قلیت)

عبداللطیف خالد چیمہ

۳۷ برس قبل پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر لاہور ی وقادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور تمام اسلامی ممالک میں اس فیصلے کو نہ صرف سرا ہا بلکہ بعض ممالک میں اِس آئینی وقانونی اور تاریخ ساز فیصلے کی روشنی میں قادیانی فتنے کے سدباب کے لیے اقدامات بھی کیے گئے ،اِس فیصلے نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے لیے مرزائیوں کو رکاوٹیں نظر آنے لگیں ،لوئر کورٹس سے اپر کورٹس تک عدالتی فیصلوں نے قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان حد فاصل کو مزید قانونی جواز مہیا کیے اور جہاں تہاں یہ فتنہ پہنچا ہر جگہ اہل حق نے وہاں وہاں پہنچ کر دنیا پر حقیقت آشکارا کردی۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قرار دادِ اقلیت کی پارلیمنٹ میں منظوری کے بعد قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے خطاب میں اِسے پورے ایوان کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ

’’ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے یہ ایک قومی فیصلہ ہے ، یہ پاکستان کی عوام کا فیصلہ ہے ،یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ ۱۹۵۳ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلہ کے حل کے لیے نہیں، بلکہ اس مسئلہ کو دبانے کے لیے تھا۔‘‘

۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء میں صدر ضیاالحق مرحوم نے امتناع قادیانیت ایکٹ کے تحت قادیانیوں کو اسلامی شعائر وعلامات کے استعمال سے قانوناً روک دیا یہ ایکٹ تعزیرات پاکستان کا حصہ ہے لیکن لاہوری وقادیانی مرزائی۱۹۷۴ء کی آئینی قرار دادِ اقلیت، ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت ایکٹ اور عدالتی فیصلوں کو ماننے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ ان فیصلوں کے خلاف پوری دنیا میں پراپگنڈہ اور لابنگ کر رہے ہیں۔ اِن سطور کے ذریعے ہم تحریک ختم نبوت کی تمام جماعتوں، اداروں اور شخصیات سے درخواست کرنا چاہیں گے کہ وہ آئندہ ماہ کی ۷ تاریخ (بدھ) کو نہ صرف ملک بھر بلکہ دنیا میں ’’ یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ پہلے سے زیادہ شان وشوکت کے ساتھ منانے کاا ہتمام فرمائیں اور پوری دنیا کو تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت اور قادیانی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کریں ،مجلس احرارِ اسلام کی جملہ ماتحت شاخوں اور جماعت کے ذیلی اداروں کے لیے اِنتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنی اپنی سطح پر ’’ یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ کے لیے ابھی سے تیار ی کریں رمضان المبارک اور عیدالفطر کی مصروفیات کے تقریباً ایک ہفتہ بعد۷؍ ستمبر ہے اِس دن کو اِس کی شان کے ساتھ منانے کے لیے مشترکہ اجتماعات وتقریبات کاا ہتمام کیا جائے اور ممکن حد تک تمام مکاتب فکر کو شرکت کی دعوت دی جائے۔

شہداءِ ختمِ نبوت ساہیوال کا مقدمہ سپریم کورٹ میں :

۲۷ سال قبل۲۶؍ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو ساہیوال میں ۱۱ قادیانیوں نے مسلح ہو کر مشن چوک کے قریب جامعہ رشیدیہ کے مدرس اور مجلس احرارِ اسلام ساہیوال کے صدر قاری بشیر احمد حبیب اور پولی ٹیکنیکل کالج کے طالب علم اظہر رفیق کو شہید کردیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت پیر جی عبدالعلیم رائے پوری شہید رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء اور قائد ین تحریکِ ختمِ نبوت کے مشورے و تائید کے ساتھ راقم الحروف کو مقدمہ کی پیروی کے لیے مدعی نامزد کیا گیا۔ وکیل ختمِ نبو ت جناب عبدالمتین چودھری ایڈووکیٹ کی نگرانی میں سینئر وکلاء کی ایک ٹیم نے دن رات ایک کرکے ملٹری کورٹ نمبر ۶۲ ملتان میں مقدمہ کی پوری جنگ لڑی اور برصغیر کی تاریخ میں ایک مثال قائم ہوگئی کہ ہنگامہ آرائی کے بغیر ایک عدالتی پر اسیس کو اختیار کیا جائے تو جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ ملتان مسلسل پیشیوں اور صبر آزما عدالتی سماعت کے دوران ٹاپ کے قادیانی وکیل زچ ہو کر رہ گئے۔ حضرت مولاناسید عطاء المحسن بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ العالی اپنے نائبین اورساتھیوں کے ہمراہ عدالت کے باہر نصرت کے لیے موجود رہتے۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم ،بزرگوں کی دعا ؤں اور قانونی راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے سپیشل ملٹری کورٹ نے قادیانی ملزمان محمد دین اور محمد الیاس منیر مُربّی کو سزائے موت اور جرمانہ کی سزا سنائی محمد دین تو سنٹرل جیل ساہیوال میں ہی مر گیا جبکہ محمد الیاس منیر مُربّی (سزائے موت) کے علاوہ نعیم الدین ، عبدالقدیر ،محمد نثار اور حاذق رفیق طاہر کی سزا ئے قید کو لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد ارشاد حسن اور جسٹس محمدعارف نے۱۹۹۴ء میں اِس بنا پر رہا کر دیا کہ ملزمان نے جتنی سزا ئیں کاٹ لی ہیں وہ کافی ہیں۔ اصل میں بعض خفیہ ہاتھ اور وقت کے حکمران اس کیس پر اثر انداز ہوئے۔

اِس فیصلے کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں پٹیشن دائر کی جسے ۱۹۹۵ء میں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تب سے اب تک رو ٹین کی چند پیشیوں کے بعد ۱۴؍ جولائی ۲۰۱۱ء کو چیف جسٹس جنا ب افتخارمحمد چودھری کی سر براہی میں قائم بنچ نمبر ۱ جس میں مسٹر جسٹس خلجی عارف حسین اور مسٹر جسٹس عامر ہانی مسلم شامل ہیں نے برہمی کے انداز میں استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں نے ملزمان کو بیرونی ممالک سے واپس پاکستان لانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چودھری خادم حسین قیصر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ضابطے کی کارروائی کرکے وزارتِ داخلہ سے کہا گیا ہے کہ ملزمان کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ عدالت عظمیٰ نے پولیس پر وٹیکشن آرڈر کے تحت آئی جی پنجاب کو بھی ہدایت کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر ملزمان کو بیرون ملک سے واپس لائیں۔ عدالت عظمیٰ نے متعلقہ اداروں کو تین ہفتوں کی مہلت دی ہے کہ وہ مفرور ملزمان کی ہرحال میں گرفتار ی کو یقینی بنائیں ۔

اُمید ہے کہ اگست میں سپریم کورٹ قادیانی ملزمان، متعلقہ سرکاری افسران اور مدعی (راقم الحروف) کو طلب کرے گی سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل جناب چودھری علی محمد ایڈووکیٹ اس کیس میں ہمارے کونسل ہیں۔ اِن سطور کے ذریعے ہم سپریم کورٹ کے قابل احترام جج صاحبان کے اِس کردارکی تحسین کرتے ہیں کہ جہاں وہ دیگر بڑے اور اہم مقدمات میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور ان کی صدائے باز گشت پوری دنیا میں سنی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ۲۷سالہ پرانے اس مشہور مقدمہ کی دبی ہوئی فائل پر بھی نظرِ عنایت فرمائی ہے ۔امید ہے ہمیں انصاف ملے گا اور شہداء کے قاتل اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے (ان شاء اللہ تعالیٰ)۔ اِس کے ساتھ ساتھ اِس امرکی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مشن چوک کے قریب قادیانی معبد جس کو ۲۷؍ اکتوبر۱۹۸۴ء کو ساہیوال کی پولیس اور انتظامیہ نے راقم کی مُدعیت میں قانون کی دفعہ ۱۴۵ کے تحت متنازعہ قرار دے کر سیل کردیا تھا ۔الحمد للہ آج تک سیل ہے۔ اس دوران متعدد مرتبہ قادیانیوں نے اِس کو کھلوانے کی ناکام کوششیں کیں۔ یہ کیس ساہیوال کی عدالت میں ہے اور ہم اس میں پارٹی ہیں اوّل آخر ہماری خواہش ہے کہ قانون کے مطابق اس کا فیصلہ ہو اور کسی دباؤ کو خاطرمیں نہ لایا جائے !وما علینا الاالبلاغ

عبداللطیف خالد چیمہ
حکومت، عدلیہ تصادم ۔۔۔ کیا رنگ لائے گا؟
  Twitter RSS Designer